گاندربل…انفو…. لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، تولہ مولہ کیمپس گاندربل میں نئے تعمیر شدہ انتظامی بلاک اور ایمفی تھیٹر کا اِفتتاح کیا۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اگلے دو دہائیوں میں نمایاں ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اِس سمت میںماہرینِ تعلیم اور طلبا¿کا کردار نہایت اہم ہے تاکہ۔” وِکست بھارت@ 2047 “کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔“اُنہوں نے کہا،”ہماری ترقی کا ماڈل اِنسانی وسائل کی تخلیق پر مبنی ہونا چاہیے جو اِقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے۔“لیفٹیننٹ گورنر نے طلباءمیں سیکھنے کا ایک دِلچسپ ماحول فراہم کرنے ، تخلیقی سوچ، زِندگی کی مہارتوں کو فروغ دینے ،مسائل کے حل اور اِختراع کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے کہا،”ہمیں ”سب چلتا ہے“ والے رویے سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے اورہندوستان کو علمی معیشت میں تبدیل کرنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پرانے نصاب میں اِنقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی ۔ ہماری اوّلین ترجیح اِنسانی سرمایہ، اِختراع اور تحقیق میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے۔“لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے بین الشعبہ جاتی کورسز پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ کورسز نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں، اِختراعات، سوچ اور مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ طلبا¿ کو ان کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا،”یونیورسٹی ترقی کا محور ہے اور طلبا¿ اس کے گرد گھومنے والے عناصر ہیں۔ انسانی ترقی کوئی مشینی عمل نہیں بلکہ اس کے لئے بہتر یونیورسٹیاں، قابل اَساتذہ اور ایک مو¿ثر تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے۔“لیفٹیننٹ گورنر نے موجودہ دور میں تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور ترقی کے پیش نظر ایسے انسانی وسائل کی ضرورت پر زور دیا جو غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوں ۔اُن کے پاس زِندگی بھر سیکھنے کی مہارت اور رِی ۔سکلنگ اور اَپ ۔سکلنگ کے لئے وقت کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔اِس موقعہ پر سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں حال ہی میں تعینات اساتذہ کے لئے سات روزہ تعارفی پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا۔اِس تقریب میں وائس چانسلر سینٹر ل یونیورسٹی آف کشمیر پروفیسر اے رویندر ناتھ، ڈی آئی جی سیںٹرل کشمیر رینج راجیور پانڈے، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل جتن کشور، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اَساتذہ، سٹاف اور طلبا¿ نے شرکت کی۔






