سری نگر….۰۳،اگست…جے کے این ایس…. جموں وکشمیرمیں موسم کی قہرسامانیاں جاری ہیں ۔چسوتی کشتواڑ اورکٹرہ میں ویشنو دیوی مندر کے راستے پر بالترتیب بادل پھٹنے،سیلابی ریلے آنے اورمٹی کے تودے گرآنے کے نتیجے میں 102افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد ریاسی اور رام بن اضلاع میں مٹی کاتودہ گرآنے اور بادل پھٹنے کے واقعات میں 5معصوم بچوں ،میاں بیوی اور2سگے بھائیوں سمیت 11افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے جبکہ ایک شخص لاپتہ ہے ۔اس دوران رام بن کے سمبر علاقے میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی اور متعدد مکانات اور دکانات کو بھاری نقصان پہنچا ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع کے ایک دُور افتادہ گاو¿ں میں سنیچر کی صبح مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد ہلاک ہو گئے،جن میں ایک خاتون اور5کمسن بچے بھی شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ مہور کے بدر گاو¿ں میں شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور تمام سات لاشیں نکال لی گئی ہیں۔مرنے والوں کی شناخت38سالہ نذیر احمد ، ان کی بیوی35سالہ وزیرہ بیگم اور ان کے بیٹے13سالہ بلال احمد ، 11سالہ محمد مصطفی، 8سالہ محمد عادل، 6سالہ محمد مبارک اور 5سالہ محمد وسیم کے طور پر کی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ نذیراحمد اور اس کے افراد خانہ سو رہے تھے ،جب پہاڑی ڈھلوان پر واقع ان کا مکان مٹی کے تودے کی زد میں آ گیا جس سے وہ زندہ دب گئے۔مقامی لوگوں نے ملبے کو تلاش کیا اور بعد میں پولیس بھی ان کے ساتھ مل گئی لیکن صرف لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو سکے۔ رات بھر جموں و کشمیر کے وسیع حصوں میں درمیانی سے بھاری بارش ہوئی۔اس دوران جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے ایک گاو¿ں میں بادل پھٹنے سے 4افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور لاپتہ شخص کی تلاش جاری ہے۔حکام نے ہفتہ کو بتایاکہ رام بن ضلع کے ایک دور افتادہ گاو¿ں میں بادل پھٹنے سے دو بھائیوں سمیت چار افراد کی موت ہو گئی، جس سے2 مکانات اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا،۔انہوں نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع پہاڑی راج گڑھ میں جمعہ کی رات بادل پھٹنے کے بعد تقریباً 11بجکر30منٹ پر سیلاب آیا۔رام بن کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان نے کہاکہ بچاو¿ کرنے والوں کی سخت تلاش کے بعد ملبے کے نیچے سے چار لوگوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں مقامی رضاکاروں، پولیس اور ایس ڈی آر ایف شامل ہیں۔ایک اور لاپتہ شخص کی لاش کی تلاش جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان، رام بن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون گپتا کے ساتھ، ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی نگرانی کےلئے صبح سویرے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔حکام نے مرنے والوں کی شناخت24سالہ اشونی شرما، اس کے بھائی 55سالہ دوارکا ناتھ، بھتیجی26سالہ ورتا دیوی اور ان کے مہمان38سالہ اوم راج کے طور پر کی ہے، جو راج گڑھ کے بنشارا کے رہنے والے ہیں۔ایک 55سالہ خاتون بدیا دیوی کی تلاش کر رہے ہیں۔ایک مقامی اجے کمار نے کہا کہ بادل پھٹنے کا واقعہ پرائمری اسکول کے قریب پہاڑی کی چوٹی پر واقع گاو¿ں پر ہوا اور اس نے ڈروبلا،گڈگرام گاو¿ں کے ذریعے ایک تیز بہنے والی ندی بنا دی، جس سے اسکول کی عمارت کے علاوہ دو رہائشی مکانات اور ایک گائے کی چھت بھی بہہ گئی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور بشیر احمد ماگرے کی قیادت میں مقامی رضاکاروں کی کوئیک ری ایکشن ٹیم کو آفت کے فوری ردعمل پر سراہا۔ضلعی انتظامیہ نے پہاڑی اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور شدید بارش کے دوران کمزور ڈھانچے میں رہنے سے گریز کریں۔






