سری نگر….۳۱، نومبر….جے کے این ایس……. دہلی پولیس نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی کہ لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ کرنے والا شخص ڈاکٹر عمرالنبی تھا، فارنزک ڈی این اے ٹیسٹنگ کے بعد اس کا حیاتیاتی نمونہ اس کی والدہ کےساتھ ملا۔جے کے این ایس کے مطابق خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کےساتھ خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے، سینئر پولیس حکام نے کہا کہ یہ تصدیق کئی دنوں کے تفصیلی فرانزک تجزیہ کے بعد ہوئی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے انکشاف کیا کہ دھماکے کے بعدڈاکٹر عمر کی ٹانگ سٹیئرنگ وہیل اور کار کے ایکسلریٹر کے درمیان پھنسی ہوئی پائی گئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب کار میں دھماکہ ہوا تو وہ پہیے کے پیچھے تھا۔ڈی این اے پروفائلنگ نے حتمی طور پر متوفی کی شناخت ڈاکٹر عمر النبی کے طور پر کی ہے۔ دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ رشتہ قائم کرنے کے لیے اس کا نمونہ اس کی ماں کے ڈی این اے سے ملایا گیا ۔ڈاکٹر عمر کی والدہ اور بھائی کے ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کر کے ایمس فرانزک لیبارٹری میں بھیجے گئے جہاں وہ دہلی کے لوک نائک ہسپتال میں رکھی لاشوں کے باقیات سے میچ کر گئے۔اے این آئی سے بات کرتے ہوئے،AIIMS دہلی کے فارنسک میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر سدھیر گپتا نے کہا کہ ڈی این اے پروفائلنگ کا استعمال انسانی شناخت میں کسی فرد کو ان کے ڈی این اے کے منفرد حصوں کا تجزیہ کرکے حیاتیاتی نمونے سے ملانے کے لیے کیا جاتا ہے۔انہوںنے بتایاکہ ڈی این اے پروفائلنگ کو فرانزک سائنس میں مشتبہ افراد یا متاثرین کی شناخت کے لیے ایک طاقتور ٹول سمجھا جاتا ہے، اور یہ حیاتیاتی تعلق بھی قائم کرتا ہے۔ڈاکٹر سدھیر گپتا نے کہاکہ یہ ایک طاقتور ٹول اور فارنزک سائنس میں مشتبہ افراد، متاثرین کی شناخت، اور حیاتیاتی تعلقات قائم کرنے کےلئے گولڈ اسٹینڈرڈ ہے، اور یہ مجرمانہ تحقیقات، آفت زدہ افراد کی شناخت، اور پیٹرنٹی ٹیسٹ جیسے معاملات میں استعمال ہوتا ہے ۔مجموعی طور پر 21 حیاتیاتی نمونے ایف ایس ایل کو جانچ کےلئے بھیجے گئے۔ لال قلعہ کے دھماکے میں کل12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں بنیادی ملزم بھی شامل ہے۔ بقیہ نمونے دیگر متاثرین سے اکٹھے کیے گئے اور حیاتیاتی نشانات قریبی تباہ شدہ گاڑیوں پر پائے گئے جن میں کاریں اور ای رکشہ بھی شامل ہیں جو دھماکے سے متاثر ہوئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کی شناخت دہلی دہشت گرد دھماکہ کیس کی جاری تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے کئی لوگ ہلاک ہوئے اور قومی دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیل گیا۔دہلی پولیس کے ذرائع نے جمعرات کو بتایاکہ لال قلعہ دھماکے کی جگہ سے جمع کیے گئے نمونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں وہاں دھماکہ ہونے والی کار کو ڈاکٹر عمر نبی چلا رہے تھے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ بتایا گیاکہ کوئل پلوامہ کے رہنے والے ڈاکٹر عمرنبی کی والدہ کے ڈی این اے کے نمونے منگل کو اکٹھے کئے گئے تھے اور انہیں یہاں جانچ کےلئے بھیج دیا گیا تھا، ذرائع نے مزید کہا کہ دھماکے کی جگہ سے جمع کی گئی باقیات کےساتھ ان کا تجزیہ کیا گیا،جس سے یہ ثابت ہواکہ جب لال قلعہ کے نزدیک دھماکہ ہواتو ڈاکٹرعمر نبی کار چلا رہا تھا۔ایک ذریعے نے کہا، ’ڈی این اے کے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ واقعی عمر ہی تھا جو خطرناک گاڑی چلا رہا تھا۔‘ڈاکٹرعمر نبی اس ہفتے کے شروع میں پکڑے گئے’وائٹ کالر‘ دہشت گردی کے ماڈیول کا اہم رکن تھا۔ ان کا تعلق جموں و کشمیر کے پلوامہ کے کوئل گاو¿ں سے ہے۔پولیس نے کالعدم جیش محمد اور انصار غزوت الہند سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کرنے اور 3 ڈاکٹروں سمیت8 افراد کو گرفتار کرنے کے چند گھنٹے بعد، پیر کی شام دہلی کے لال قلعہ کے علاقے کے قریب تیز رفتار دھماکہ ایک سست رفتار کار کے ذریعے پھٹ گیا۔جموں و کشمیر، ہریانہ اور اتر پردیش میں پھیلے دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد تقریباً 2990 کلو گرام امونیم نائٹریٹ، پوٹاشیم کلوریٹ اور سلفر ضبط کیا گیا۔






