جموں….انفو ….وزیربرائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے متعدد قانون سازوں اور عوامی وفود کے ساتھ ملاقات کی تاکہ ان کے زیرِ اِنتظام محکموں سے متعلق مسائل کا جائزہ لیاجاسکے۔دوران ملاقات بنیادی طور پر پبلک ہیلتھ اِنجینئرنگ (پی ایچ اِی)، آبپاشی و فلڈکنٹرول (آئی اینڈ ایف سی) اور قبائلی امور سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے۔بات چیت کے دوران عوامی اہمیت کے حامل مختلف نوعیت کے مسائل پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔ ان میں پینے کے پانی کی دستیابی اور اضافہ ،آئی اینڈ ایف سی کے تحت آبپاشی اور سیلاب سے نمٹنے کے کام، قبائلی کمیونٹیوں کے مسائل، لکڑی کی فراہمی سے متعلق امور اور جموں و کشمیر فارسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے ایف ڈِی سی ایل) کے ملازمین سے متعلق سروس سے متعلق شامل تھے۔ہمدردانہ تقرری سے متعلق مقدمات اور جے کے ایف ڈی سی ایل کے ملازمین کے طویل عرصے سے زیرِ اِلتوا¿ پنشن کے معاملات کے حل پر خصوصی زور دیا گیا۔یہ تمام امور جے کے ایف ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر کی موجودگی میں تفصیل سے زیرِ بحث آئے تاکہ بروقت اور منصفانہ ازالہ کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر جاوید احمد راناسے ملاقات کرنے والے قانون سازوں میں چودھری محمد اکرم، افتخار احمد، ایم وائی تاریگامی، نظام الدین بٹ، بھارت بھوشن، مشتاق گورو، ارجن راجو، جاوید اقبال، حسنین مسعودی اور پیرزادہ فیروز احمد شاہ شامل تھے۔اُنہوں نے اَپنے اَپنے حلقوں اور مختلف شعبوں سے متعلق ایسے مسائل کی نشاندہی کی جن پر اِنتظامی توجہ کی ضرورت ہے۔وزیر موصوف نے تمام قانون سازوں اور عوامی وفودکو بغور سُنا اور یقین دِلایا کہ اُٹھائے گئے تمام حقیقی مسائل کا وقت مقررہ میں اور نتیجہ خیز انداز میں جائزہ لیا جائے گا۔اُنہوں نے متعلقہ افسران کو فوری فالو اَپ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی اور ہر مسئلے کے جلد حل کو یقینی بنانے کے لئے مو¿ثر بین ڈیپارٹمنٹل کوآرڈی نیشن کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر نے عمر عبداللہ حکومت کے عوامی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی خدمات کو مضبوط بنانا، ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور خطے وکمیونٹی سے متعلق مخصوص مسائل کا حل موجودہ حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ عوامی توقعات پر پورا اُترنے کے لئے جوابدہ طرزِ حکمرانی اور خدمات کی بروقت فراہمی نہایت اہم ہے۔






