سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کیلئے کام جاری راجناتھ سنگھ
سرینگر/ 02جون/ سی این آئی/ تاریخ اس بات کی ثبوت ہے کہ جب بھی ہندوستان کی افواج کمزور ہوئی ہیں، حملہ آوروں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ فوج صرف قوم کی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ وہ اس ملک کی ثقافتی، اقتصادی اور ایک طرح سے پوری تہذیب کی حفاظت کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے طور پر ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہماری افواج مضبوط ہیں، ان کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں اور ان میں جوانی باقی ہے۔ ہم نے بھارت کی فوجی طاقت بڑھانے کیلئے ہر قدم اٹھایا ہے اور ہم بھارت کو دوبارہ سپر پاور بنا سکتے ہیں۔سی این آئی کے مطابق نئی دہلی میں منعقدہ اقتصادی کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے۔خطاب میں وزیر دفاع نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جب ہندوستان ایک سپر پاور کے طور پر ابھرے گا تو اسے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پوری دنیا میں جمہوریت، مذہبی آزادی، انسانوں کا وقار اور عالمی امن جیسی عالمی اقدار قائم ہوں۔وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت ملک کے تقریباً تمام شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ اس بات کی مثال ہے کہ جب بھی ہندوستان کی افواج کمزور ہوئی ہیں، حملہ آوروں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج صرف کسی قوم کی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ وہ اس ملک کی ثقافتی، اقتصادی اور ایک طرح سے پوری تہذیب کی حفاظت کرتی ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس لیے حکومت کے طور پر ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہماری افواج مضبوط ہیں، ان کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں اور ان میں جوانی باقی ہے۔ ہم نے بھارت کی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے ہر قدم اٹھایا ہے اور ہم بھارت کو دوبارہ سپر پاور بنا سکتے ہیں۔فلم اسپائیڈر مین کے ایک ڈائیلاگ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ”عظیم طاقت بڑی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے“۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم سپر پاور بن کر دنیا کے سامنے آئیں گے تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ پوری دنیا میں جمہوریت، مذہبی آزادی، انسانی وقار اور عالمی امن جیسی عالمی اقدار کو برقرار رکھا جا سکے۔ ہاں ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ ہم اپنے خیالات کسی پر مسلط نہ کریں۔وزیر دفاع نے کہا کہ اگر میں برآمدات کی بات کروں تو 7-8 سال پہلے دفاعی آلات کی برآمد جہاں ایک ہزار کروڑ روپے بھی نہیں تھی، آج تقریباً 16 ہزار کروڑ روپے بن چکی ہے۔ میک ان انڈیا اور ڈیفنس کوریڈور جیسے نئے اقدامات کے ذریعے ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہم ہندوستانی افواج کے استعمال کیلئے جدید ترین ہتھیار ہندوستان میں تیار کریں اور اگر ممکن ہو تو ہم انہیں برآمد بھی کریں۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں واقع ہمارے گاو¿ں جنہیں آج تک نظر انداز کیا گیا، ہم نے انہیں سڑکوں کے ذریعے ملک کے باقی حصوں سے جوڑا ہے۔ اگر آپ ہوائی اڈوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو آج ہمارے پاس 2014 کے مقابلے میں ہوائی اڈوں کی تعداد دوگنی ہے۔ ہم اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ چپل پہننے والا بھی ہوائی جہاز میں سفر کر سکتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا،”ہمارے ملک میں بہت سی سیاسی جماعتیں ہیں۔ ظاہر ہے سیاسی جماعتیں جمہوریت کا محور ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے بغیر جمہوریت آسانی سے نہیں چل سکتی۔ لیکن ہمارے ملک کی بہت سی سیاسی جماعتوں میں ہمیں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ کسی نظریے سے متاثر ہو کر سیاست نہیں کرتیں، بلکہ ان کی سیاست ایک شخص، ایک خاندان اور ایک ذات کے گرد گھومتی ہے“۔ اگر میں ہندوستان کے سیاسی مستقبل کی بات کرتا ہوں تو میری خواہش ہے کہ جس طرح ہم مستقبل میں آگے بڑھیں، ہماری جمہوریت بھی اسی طرح مضبوط ہو۔ سیاست سے جرائم کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہمارا ملک اعتماد کی سیاست کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔ سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ راجناتھ سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی مجموعی ترقی پر بھی روشنی ڈالی، بشمول اقتصادی میدان میں، اور کس طرح ہندوستان کی ثقافتی شناخت کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا، ”ہم ہندوستان کی ثقافتی شناخت کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور میں مستقبل میں بھی وہی ہندوستان دیکھنا چاہتا ہوں جہاں اس کی ثقافتی خودمختاری ہو۔






