سری نگر….۳ ،اکتوبر….جے کے این ایس …..وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے بعد آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے جمعہ کو پاکستان کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پڑوسی ملک دنیا کے نقشے پر اپنا مقام برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی سرپرستی بند کرنی چاہیے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل دویدی نے راجستھان کے سری گنگا نگر ضلع کے انوپ گڑھ میں فوجیوں سے سخت الفاظ میں خطاب میں کہا کہ آپریشن سندور کے دوران نئی دہلی کی طرف سے دکھائی گئی تحمل کا مظاہرہ مستقبل میں کسی فوجی تنازع کی صورت میں نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں پر زور دیا کہ وہ کارروائی کے لیے تیار رہیں ،بھارت، ایک ملک کے طور پر، اس بار پوری طرح تیار ہے۔ اور اس بار، وہ وہ تحمل نہیں دکھائے گا جو اس نے آپریشن سندور 1.0 کے دوران دکھایا تھا۔انہوںنے پاکستان کوسخت وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ دنیا کے نقشے پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر پاکستان دنیا کے نقشے پر اپنا مقام برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔آرمی چیف نے فوجیوں کو تیار رہنے کو کہا کہ اب پوری طرح تیار رہیں، اگر اللہ نے چاہا تو موقع جلد ملے گا۔جنرل دویدی نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی کا ثبوت دنیا کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے یہ ثبوت نہ نکالے ہوتے تو پاکستان یہ سب چھپا دیتا۔آرمی چیف نے کہا کہ22 اپریل2025 کو پہلگام حملے کے بعد جب بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا تو پوری دنیا اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے اندر9 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں سے7کو فوج نے اور 2کو فضائیہ نے نشانہ بنایا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اہداف کی نشاندہی کی تھی کیونکہ ہم صرف دہشت گردوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے کہاکہہمارا مقصد ان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا تھا۔ ہمیں عام پاکستانی شہریوں سے کوئی شکایت نہیں ہے، جب تک کہ ان کا ملک دہشت گردوں کی سرپرستی نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ دہشت گردوں کی سرپرستی کی جا رہی تھی، اس لیے دہشت گردوں کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔بین الاقوامی سرحد کے قریب رہنے والوں سے اپنی اپیل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی نے کہا کہ ہم سرحدی آبادی کو عام شہری نہیں بلکہ سپاہی سمجھتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ وہ جنگ میں ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں، یہ بہت اہم ہے کیونکہ آنے والی جدوجہد صرف فوج کی نہیں قوم کی جدوجہد ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں عام شہری فوجیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا۔ جنرل اوپیندر دویدی نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں – ان کا جوش ہمارے سپاہیوں کے حوصلے کو بڑھاتا ہے۔






