Thursday, June 4, 2026
  • Home
  • ePaper
Daily Indian Times
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper
No Result
View All Result
Daily Indian Times
No Result
View All Result
Home Edit

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تقرری نامے اور ریگولرائزیشن کے احکامات جاری کئے

by Indian Times
04/12/2025
A A
FacebookTwitterWhatsappEmail

جموں …..انفو…..وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایس آر او۔43 اور رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم ( آر اے ایس۔2022) کے تحت ہمدردانہ بنیادوں پر اِلتوا میں پڑے معاملات کو نمٹانے کے لئے اَپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور یقین دِلایا کہ جہاں بھی ضروری ہو تمام ضروری رعایتیں دِی جائیں گی تاکہ پورے عمل کو آسان اور مکمل شفاف بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔اُنہوں نے ایس آر او۔43 اورآر اے ایس۔2022 کے تحت اُمیدواروں کو تقرری نامے اور سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کنٹین جنٹ پیڈ ورکروں (سی پی ڈبلیوز) کو ریگولرائز یشن کے احکامات جاری کئے۔اِس تقریب میں وزیر سکینہ اِیتو، وزیر ستیش شرما، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈِی ایم راجو،صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، سیکرٹری سکول ایجوکیشن رام نواس، ضلع ترقیاتی کمشنر جموں راکیش منہاس اور مستفیدین و اہل خانہ کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ ،جن کے پاس جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا قلمدان بھی ہےں،نے اَپنے خطاب میں مستفیدین کو یقین دِلایا کہ حکومت ایس آر او ۔43 اورآر اے ایس۔2022 کے تحت اِلتوا ¿میں موجود تمام معاملات کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے کہا،”جہاں تک ایس آر او۔43 کے احکامات کا تعلق ہے، میں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ ہم زیر اِلتوا¿ معاملات کو نمٹانے کی پوری کوشش کریں گے۔ ہم قواعد کے مطابق معاملات میں نرمی دیں گے اور اِس پورے عمل کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنائیں گے۔“وزیر اعلیٰ نے کہا،”حکومت کی طرف سے ہماری واحد کوشش آپ کی اس مشکل گھڑی میں مدد کرنا ہے۔ آپ کو یہ محسوس نہیں کرنا چاہیے کہ آپ اکیلے ہیں یا کوئی آپ کے ساتھ نہیں۔ اگر حکومت آپ کی بے بسی کے وقت آپ کا ساتھ دیتی ہے، تو یہ کوئی احسان نہیںبلکہ یہ آپ کا حق ہے۔“اُنہوں نے سی پی ڈبلیوز کے طویل عرصے سے زیرِ اِلتوا¿ معاملات اور اُن کے ریگولرائزیشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا،”سی پی ڈبلیوز کے لئے آج کا دِن خاص اہمیت رکھتا ہے ۔جیساکہ سکینہ صاحبہ نے پہلے ہی ذِکر کیا ہے ، ہم سی پی ڈبلیوز کی باقاعدگی اور احکامات جاری کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔جو لوگ آر اے ایس اور ایس آر او ۔43 کے تحت ہیں ،میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے اَفراد کو یہا ں تک پہنچنے میں بہت تکلیف ہوئی ہے اور میں اس کے لئے آپ سے معذرت خواہ ہوں۔“اُنہوں نے ایس آر او ۔43 اورآر اے ایس معاملات میں تاخیر کے حوالے سے کہا،”ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جب کوئی حکومتی نظام ہوتا ہے، تو اسے خودکار طریقے سے کام کرنا چاہیے۔ میں آپ کو یقین دِلاتا ہوںہم اس عمل کو مزید آسان بنائیں گے۔ ہم آپ کو درپیش مشکلات کم کریں گے۔ چوں کہ میں خود جی اے ڈِی کا پورٹ فولیو رکھتا ہوں، اس لئے میں ذاتی طور پر اس بات کو یقینی بناو¿ں گا کہ رُکاوٹیں دور ہوں۔“وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان احکامات کی فراہمی فرض ہے، فراخدلی نہیں۔اُنہوں نے کہا،”اگر ہم آپ کی مشکل گھڑی میں آپ کی پریشانیاں بڑھائیں، تو ہم اپنے فرض میں ناکام ہوتے ہیں۔ یہ ہمدردانہ ملازمتیں آپ کا حق ہیں اور انہیں فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر آپ کو طویل انتظار کرنا پڑا، تو میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اس عمل کو مزید آسان بنانے کے لئے پوری کوشش کریں گے۔“اُنہوں نے نئی تقرری حاصل کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اَپنی ذِمہ داریاں خلوص اور لگن سے نبھائیں۔وزیرا علیٰ نے کہا،”ایک بھاری ذمہ داری آپ پر آ گئی ہے، شاید توقع سے پہلے۔ اَپنی پوری کوشش کریں کہ اسے پورا کریں۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے تاکہ آپ کا کام آسان ہو سکے۔ اگر آپ کو کسی مشکل کا سامنا ہو، تو بلا جھجک میرے پاس آئیے،میں ہمیشہ آپ کے لئے موجود ہوں۔“اُنہوں نے مزید کہا کہ سی پی ڈبلیوز کے لئے مزید ریگولرائزیشن کے احکامات جلد ہی محکمہ تعلیم کی طرف سے وزیر تعلیم سکینہ ایتو کی نگرانی میں جاری کئے جائیں گے۔اِس موقعہ پر سکینہ اِیتو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے ایس آر او۔43 اورآر اے ایس۔2022 کے معاملات کو نمٹانے کو اوّلین ترجیح دی ہے تاکہ دیرینہ شکایات کا اَزالہ یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ بہت سے مستحق اُمیدوار تقریباً ایک دہائی سے انتظار کر رہے تھے۔اُنہوں نے کہا،“تقریباً 10 برس کی جدوجہد کے بعد آخرکار مستحق اُمیدواروں کو موجودہ حکومت کے دور میں اُن کا حق ملا ہے۔وزیرموصوفہ نے مزید کہا کہ سی پی ڈبلیوز کی ریگولرائزیشن حکومت کے اس وسیع تر ویژن کا حصہ ہے جنہوں نے محکمہ سکولی تعلیم میں خدمات کے قیمتی سال وقف کئے ہیں۔

ShareTweetSendSend
Previous Post

لیفٹیننٹ گورنر نے جموں میں جسمانی طور خاص اَفراد کے عالمی دِن کی تقریب میں شرکت کی

Next Post

جموںوکشمیر جسمانی طور پر خاص اَفراد کیلئے جامع ، قابل رسائی ماحول پیدا کرنے کیلئے مسلسل کوششیں جاری۔ سکینہ اِیتو

Indian Times

Indian Times

Related Posts

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے وادی میں ضروری اشیاءکی دستیابی کا جائزہ لیا
J&K

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے وادی میں ضروری اشیاءکی دستیابی کا جائزہ لیا

01/04/2026
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا
J&K

لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا

01/04/2026
چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا
J&K

چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا

01/04/2026
لیفٹنٹ گورنر نے کیا گہرے صدمے کا اظہار
J&K

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گہرے صدمے کا اظہار

01/04/2026
وزیراعظم مودی کا یو اے ای کے صدر کو ٹیلی فون
National

وزیراعظم مودی کا یو اے ای کے صدر کو ٹیلی فون

19/03/2026
سکینہ اِیتو نے کولگام میں 50بستروںوالے اِنٹگریٹیڈ آیوش ہسپتال کا اِفتتاح کیا
Business

سکینہ اِیتو نے کولگام میں 50بستروںوالے اِنٹگریٹیڈ آیوش ہسپتال کا اِفتتاح کیا

19/03/2026
Next Post
جموںوکشمیر جسمانی طور پر خاص اَفراد کیلئے جامع ، قابل رسائی ماحول پیدا کرنے کیلئے مسلسل کوششیں جاری۔ سکینہ اِیتو

جموںوکشمیر جسمانی طور پر خاص اَفراد کیلئے جامع ، قابل رسائی ماحول پیدا کرنے کیلئے مسلسل کوششیں جاری۔ سکینہ اِیتو

  • Home
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Region
  • National
  • World
  • Business
  • Sports
  • Edit
  • Opinion
  • ePaper

© Indian Times - Designed by GITS