کولگام….انفو ……وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع کولگام کی ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی تاکہ مالی برس 2025-26 کے ضلعی کیپکس بجٹ اور مرکزی معاونت والی سکیموں( سی ایس ایس) کے تحت ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے حالیہ سیلاب کے دوران ضلعی اِنتظامیہ کی مو¿ثر کارکردگی کو سراہا اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق جاری اَقدامات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ سرمائی مہینوں کے دوران بجلی اور پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی مستقل بحالی میں تیزی لائی جائے، فیلڈ معائینوں کو بڑھایا جائے اور بین محکمہ جاتی تال میل کو مضبوط کریں۔ اُنہوں نے جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ زمینی سطح پر واضح نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری، وزرا¿ سکینہ اِیتو، جاوید رانا، جاوید ڈار، ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیئرپرسن ڈِی ڈِی سی کولگام، ممبر ان اسمبلی ایم وائی تاریگامی اور پیرزادہ فیروز احمد، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری آر اینڈ بی ، ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام اطہر عامر خان، محکمہ جاتی سربراہان اور تمام ضلعی افسران نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے سرمائی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے برفباری سے متاثرہ علاقوں میں 4×4 ایمبولینسوں کی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ ایمرجنسی خدمات میں خلل نہ آئے۔ اُنہوں نے کہا”ہم متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ہر ضلع میں مناسب تعداد میں 4×4 ایمبولینسز دستیاب ہوں اور شدید برفباری کے دوران لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔“اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جاری اِنتظامات میں مناسب آواجاہی اور حفاظتی اَقدامات شامل ہوں۔اُنہوں نے ترقیاتی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے منصوبوں کی تعداد میں اِضافہ ہوا ہے اور جاری منصوبوں کی مالیت اور پیمانے میں بھی نمایاں اِضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا،”کام کرنے کا موسم مختصر ہے، اس لئے ہماری کارکردگی میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ میں ضلعی اِنتظامیہ پر زور دیتا ہوںکہ وہ بقیہ دو ماہ کو زیادہ سے زیادہ اخراجات اور پیش رفت کے لئے مو¿ثر طریقے سے اِستعمال کریں۔“وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت فنڈز کے بروقت استعمال پر زور دیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ دسمبر تک پہلی قسط کا مکمل اِستعمال یقینی بنایا جائے تاکہ بعد کی قسطوں کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔ اُنہوں نے مزید کہا،”ایس اے ایس سی آئی جیسی سکیموں کے تحت پیش رفت اور اِستعمال کو ٹریک کرنے کے لئے بار بار جائزے ناگزیر ہیں تاکہ کام میں خلل ڈالنے اور دسمبر کے آخر تک اخراجات کے کم فیصد کی وجہ سے فنڈز کو روکنے سے روکا جا سکے“اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے کولگام میں شہری بنیادی ڈھانچے کے متعدد اہم منصوبوں کا اِی۔اِفتتاح کیا جن میں لیرو میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اورمیٹریل ریکوری کی سہولیت ، میونسپل شاپنگ کمپلیکس اور ایک جدید مذبح خانہ شامل ہے جو ضلع میں تجارت اور شہری سہولیات کو مضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔اِس سے قبل وزیر اعلیٰ نے مختلف سرکاری سکیموں ، فلاحی اقدامات اور فلیگ شپ پروگراموں کے تحت حاصل کردہ کامیابیوں کی نمائش کرنے والے محکمانہ سٹالوں کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے اَفسران اور استفادہ کنندگان کے ساتھ بات چیت کی ، شہریوں پر مبنی حکمرانی اور مو¿ثر عوامی خدمت کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ان کی کوششوں کی سراہنا کی۔دورانِ میٹنگ چیئرپرسن ڈی ڈی سی ور مقامی قانون سازوں نے اَپنے اَپنے علاقوں سے متعلق متعدد ترقیاتی مسائل اُٹھائے۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دِلایا کہ تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر غور کیا جائے گا تاکہ کولگام کی مجموعی ترقی میں تیزی لائی جا سکے۔اِس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام اطہر عامر خان نے ضلع کی ترقیاتی پیش رفت، کامیابیوں اور 2024-2026 ءکے دوران درپیش چیلنجوں پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے سیلاب کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی، صحت، زراعت، تعلیم اور دیہی و شہری ترقی جیسے اہم شعبوں پر روشنی ڈالی۔کیپکس سرمایہ کاری کے تحت اہم پیش رفت کی اطلاع دی گئی جس میں آبپاشی، تعلیم، صحت اور شہری شعبوں میں بڑی کامیابیاں ہیں۔اِس کے علاوہ پلوں، سڑکوں اور پانی کی فراہمی کی سکیموں پر کام جاری ہے۔منریگا اور پی ایم اے وائی جیسی سکیموں کے تحت روزگار اور رہائشی سہولیات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ صحت سہولیات کی اپ گریڈیشن، سکولوں میں حاضری میں بہتری اور باغبانی، مویشی پروری اور ماہی پروری کے شعبوں میں توسیع کو بھی اُجاگر کیا گیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے سرمائی تیاریوں میں ضلعی انتظامیہ کے پیشگی اقدامات کو اُجاگر کیا جس میں ٹرانسفارمروںکی کمی، سٹاف کی خالی اَسامیوں، سڑکوں کی بحالی میں تاخیراور صنعتی زمین کی الاٹمنٹ جیسے چیلنجوںکی نشاندہی بھی کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر مربوط محکمانہ تعاون ترقی کی رفتار کو آگے بڑھا رہی ہے۔






