وزیر اعظم کا جی – 20 وزرائے صحت کے اجلاس سے خطاب
سرینگر، 18 اگست/ وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈیو پیغام کے ذریعے گجرات کے گاندھی نگر میں منعقدہ جی – 20 وزراءصحت کے اجلاس سے خطاب کیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بھارت میں حفظانِ صحت کے شعبے سے وابستہ 2.1 ملین ڈاکٹروں، 3.5 ملین نرسوں، 1.3 ملین پیرامیڈیکس، 1.6 ملین فارماسسٹ اور لاکھوں دیگر افراد کی جانب سے معززین کا استقبال کیا۔بابائے قوم کا ذکر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ گاندھی جی صحت کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہوں نے اس موضوع پر ‘کی ٹو ہیلتھ’ نامی کتاب لکھی۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دماغ اور جسم ہم آہنگی اور توازن کی حالت میں ہوں یعنی صحت ہی زندگی کی بنیاد ہے۔وزیر اعظم نے سنسکرت کا ایک ‘شلوک’ بھی پڑھا ، جس کا مطلب ہے : ”صحت ہی بہترین دولت ہے اور اچھی صحت سے ہر کام پورا کیا جا سکتا ہے۔“وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ – 19 وباءنے ہمیں یاد دلایا ہے کہ صحت کا موضوع ہمارے فیصلوں کے مرکز میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت نے ہمیں بین الاقوامی تعاون کی قدر کا احساس دلایا ، خواہ وہ ادویات اور ویکسین کی فراہمی ہو یا اپنے لوگوں کو وطن واپس لانا ہو۔دنیا کو کووڈ – 19 ویکسین فراہم کرنے کے لیے حکومت ہند کی انسانی ہمدردی کی پہل کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ویکسین میتری پہل کے تحت، بھارت نے 100 سے زیادہ ممالک کو 300 ملین ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں، جن میں بہت سے گلوبل ساو¿تھ کے ملک بھی شامل ہیں۔عالمی وباءکے دوران لچک کو سب سے بڑا سبق قرار دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی صحت نظام کو لچکدار ہونا چاہیے۔ ہمیں صحت کی آئندہ ایمرجنسی کو روکنے، تیاری کرنے اور کارروائی کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آج کی باہم مربوط دنیا میں یہ خاص طور پر اہم ہے۔ جیسا کہ ہم نے وباءکے دوران دیکھا، دنیا کے ایک حصے میں صحت کے مسائل بہت کم وقت میں دنیا کے دیگر تمام حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔






