جموں……انفو…. چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے تمام شراکت داروں کی ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے اِبتدائی چائلڈ کیئر اور تعلیم (اِی سی سی اِی) کے لئے تجویز کردہ اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔اُنہوں نے میٹنگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آنگن واڑی مراکز کو پورے جموں و کشمیر میں بچوں کی مجموعی نشوونما کے فعال مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے وقت مقررہ اور نتائج پر مبنی ”پورے حکومتی نظام“ کے نقطہ نظر کو اَپنایا جائے۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی، کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا، ایم ڈِی مشن پوشن، ایم ڈِی جے کے آر ایل ایم، ناظم سکولی تعلیم جموں/کشمیر اور دیگرمتعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے قومی تعلیمی پالیسی اور ’وِکست بھارت‘ کے ویژن کے تناظر میں اِبتدائی چائلڈ ڈیولپمنٹ کی تبدیلی لانے والی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قوم اپنے بچوں میں مو¿ثر سرمایہ کاری کے بغیر دیرپا ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ اُنہوں نے بچوں کو خوشحال مستقبل کی ضمانت اور کسی بھی قوم کی اصل دولت قرار دیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال قومیں بھی بالآخر پیداواری اور ترقی کے لئے اَپنے اِنسانی وسائل کے معیار پر منحصر ہوتی ہیں اور معیاری اِنسانی سرمایہ پیدا کرنے کا بہترین طریقہ اِبتدائی بچپن میں بروقت اور حکمت عملی پر مبنی اَقدامات ہیں۔کمشنر محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ نے بتایا کہ اِی سی سی اِی خدمات یونین ٹیریٹری میں 28,190 آنگن واڑی مراکز کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں جس میں پری سکولی تعلیم (3 سے 6 سال)، اِضافی غذائیت، حفاظتی ٹیکوں، نمو کی نگرانی ،نشوونما میں تاخیر کی بروقت شناخت اور دیویانگ بچوں کے لئے شمولیتی خدمات کو شامل کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی فریم ورک نوچیتنا (صفر سے 3 سال) اور آدھارشیلا (3 سے 6 سال) پر مبنی ہے جس میں کھیل اور سرگرمیوں پر مبنی تعلیم کے ذریعے بچوں کی ذہنی، لسانی، سماجی و جذباتی، جسمانی اور ثقافتی نشوونما کو فروغ دیا جاتا ہے۔ایم ڈِی پوشن سجاد حسین گنائی نے اِی سی سی اِی روڈ میپ کے تحت مجوزہ اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اِس روڈ میپ کا ایک اہم ستون بین محکمہ جاتی ہم آہنگی ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ محکمہ صحت کے ساتھ مل کر آنگن واڑی ورکروں اور آشا ورکروں کے مشترکہ ہوم وِزٹ، وِلیج ہیلتھ وسینٹی ٹیشن اینڈ نیوٹریشن ڈیز ، مشترکہ مشاورت اور بچوں کی نشوونما میں تاخیر کی سکریننگ کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔مزید برآں،اِس نئی حکمت عملی کے تحت محکمہ سکولی تعلیم نے آنگن واڑی مراکز کو قریبی پرائمری سکولوں کے ساتھ صدفیصد میپنگ کو یقینی بنایا ہے جبکہ 657 آنگن واڑی سینٹروں کو ایک ہی جگہ پر قائم کرنے کے لئے منتخب کیا گیا ہے تاکہ پری سکول سے پہلی جماعت تک بچوں کی منتقلی کو آسان بنایا جا سکے اور نِپن(این آئی پی یو این) بھارت مشن کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔آنگن واڑی اور پرائمری سکولوں کے درمیان ہم آہنگی کے لئے اِختراعی رہنمائی ماڈلز عملائے جا رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ مقامی یونیورسٹی طلبا¿ کو پوشن دوست اوراِی سی سی اِی انٹرنز کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ زمینی سطح پر خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔روڈ میپ میں ڈیجیٹل تبدیلی کو بھی اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ کیو آر کوڈ پر مبنی آنگن واڑی پروفائلنگ، ’ون چائلڈ، ون کارڈ‘ اَقدام اور پوشن ٹریکر، آر سی ایچ اور یو ڈائس پلیٹ فارموںکے ساتھ انضمام کے ذریعے نگرانی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جائے گی۔سکشم آنگن واڑی و پوشن 2.0 کے تحت پری سکول بچوں کے لئے اے پی اے اے آرآئی ڈیز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ تعلیمی ریکارڈ کی مسلسل نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس وقت 94 فیصد آدھار سے منسلک بچوں کا احاطہ ہو چکا ہے جبکہ مارچ 2026 ءتک مکمل ہدف حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔شفافیت اور عوامی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لئے ضلعی سطح کی مانیٹرنگ کمیٹیاں اور ہر چھ مہینے میں ایک سماجی آڈِٹ کا فریم ورک قائم کیا جائے گا جس میں پی آر آئیز، ایس ایچ جیز، مہیلا منڈل اور والدین شامل ہوں گے۔ پوشن ابھیان کے تحت کمیونٹی پروگرام جیسے گود بھرائی، اناپراشن، پرتھم دیوس اور ودیارمبھ تقاریب باقاعدگی سے منعقد کی جائیں گی۔میٹنگ میں کچھ بہترین اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں ’پوشن آن ویلز‘ کے ذریعے خدمات کی دہلیز پر فراہمی، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا کے تحت موقع پر رجسٹریشن، آدھار اِندراج اور غذائی کمی و نشوونما میں تاخیر کی سکریننگ شامل ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ’پوشن بھی پڑھائی بھی‘اَقدام کے تحت سپروائزروں اور آنگن واڑی ورکروں کو کھیل کے ذریعے تدریس اور ڈیجیٹل خواندگی کی تربیت دی گئی ہے جبکہ دوسرے مرحلے کی تربیت مالی برس 2026-27 تک مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔چیف سیکرٹری نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ اِبتدائی بچپن میں سرمایہ کاری جامع اور ترقی یافتہ جموں و کشمیر کے قیام کی بنیاد ہے اور تمام شراکت داروں کو ہدایت دی کہ وہ مشن موڈ میں کام کریں، ہم آہنگی کو یقینی بنائیں اور متعین کردہ وقت کے اندر واضح نتائج فراہم کریں۔






