جموں/یکمجنوری /انفو/محکمہ قبائلی اَمور نے قبائلی طلبا کی تعلیمی سہولیات کو آسان بنانے کے لئے، اہل شیڈول ٹرائب (ایس ٹی ۔ Iاور ایس ٹی۔II) طلباکو پوسٹ میٹرک سکالرشپ کی الیکٹرانک ادائیگی کا آغاز کیا جس سے ہزاروں فائدہ اُٹھانے والوں کو بہت بڑی راحت ملی ہے۔سکالرشپ کی ادائیگی میں پہلے ٹیکنیکل پیچیدگیوں کی وجہ سے غیر متوقع تاخیر ہوئی تھی جوایس این اے سسٹم سے ایس این اے۔ایس پی اے آر ایس ایچ پلیٹ فارم میں منتقلی کے دوران پیدا ہوئی تھیں۔یہ چیلنجوں میں بنیادی طور پر ڈیٹا مائیگریشن اور مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں پورٹنگ سے متعلق مسائل شامل تھے۔ اگرچہ محکمہ قبائلی اَمور کی طرف سے مطلوبہ فنڈز جاری کئے گئے تھے لیکن طلبا¿ کے اکاو¿نٹس میں حقیقی منتقلی نظامی سطح پر تکنیکی مسائل کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکی۔ طویل تاخیر نے طلبا¿ کی ایسوسی ایشنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سماجی کارکنوں کی توجہ مبذول کی جنہوں نے مستقل طور پر خدشات کا اِظہار کیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ قبائلی طلبا¿ کے تعلیمی مفادات کے تحفظ کے لئے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کریں۔یہ مسئلہ مسلسل کوششوں اور مربوط مداخلت کے بعد نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) نے کامیابی کے ساتھ حل کیاہے۔ اس کامیابی سے جموں و کشمیر ملک کے تمام یونین ٹریٹریز اور ریاستوں میںایس این اے سے ایس این اے۔ایس پی اے آر ایس ایچ منتقلی مکمل کرنے والا پہلا یونین ٹریٹری بن گیا جو ڈیجیٹل پبلک فائنانس اِصلاحات اور ای۔گورننس اَقدامات میں ایک قابل ذکر سنگ میل ہے۔تکنیکی مسائل کے حل کے بعدسکالرشپ کی ادائیگی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔آن لائن سکالرشپ پورٹل کے ذریعے درخواست دینے والے اہل ایس ٹی ۔I اورایس ٹی ۔II طلبا¿ کو 16.65 کروڑ روپے کی رقم جاری کی جا رہی ہے تاکہ براہِ راست ان کے بینک اکاو¿نٹس میں منتقل ہو۔وزیر برائے قبائلی اَمورجاوید احمد رانا،جو ذاتی طور پر اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، نے متعلقہ حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے رکھ کر طویل اِلتوا ¿والے مسئلے کے حل کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ طلباکے تعلیمی حصول میں کوئی رُکاوٹ نہ آئے۔محکمہ قبائلی اَمور نے اَپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شفاف، مو¿ثر اور آسان طریقے سے قبائلی طلبا¿ کو فلاحی فوائد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا۔محکمہ نے مزید یقین دہانی کی کہ تمام اہل استفادہ کنندگان کو جلد از جلد ان کی سکالرشپ ملے گی جو حکومت کی قبائلی کمیونٹیوں کی تعلیم اور بااختیاری کے لئے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔






