سری نگر….انفو….جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا خزاں سیشن جمعرات کو شروع ہوا جس میں سابق گورنر ستیہ پال ملک، سابق وزیر اور دیگر ارکانِ قانون ساز اسمبلی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جو گزشتہ سیشن کے بعد اِنتقال کر گئے۔سپیکر عبدالرحیم راتھرنے قانون ساز اسمبلی کا چوتھا سیشن شروع ہوتے ہی ایوان سے خطاب کرتے ہوئے سابق گورنر ستیہ پال ملک، سابق وزیر گل چین سنگھ چاڈک، سابق ممبر اسمبلی دینا ناتھ بھگت، سابق ایم ایل سی غلام نبی شاہین، سابق ایم ایل سی رمیش اروڑہ اور سابق ایم ایل سی سردار محمد اخلاق خان، سابق ایم ایل اے محمد سلطان پنڈتپوری کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوں نے سابق گورنر، سابق وزیر اور دیگر ارکانِ اسمبلی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے جموںوکشمیر سمیت ملک کی ترقی میںاہم کردار اَدا کیاہے۔سپیکر موصوف نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ سیشن کے محدود وقت کا بہترین اِستعمال کریں تاکہ کارروائی لوگوں کے لئے بامعنی اور فائدہ مند ثابت ہو۔تعزیتی قرارداروںکے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر جاوید احمد رانا، قائدِ حزبِ اِختلاف سنیل کمار شرما اور اَرکان اسمبلی بشیر احمد شاہ ویری، ڈاکٹر دیویندر کمار منیال، رفیق احمد نائیک، غلام احمد میر ،ڈاکٹر رمیشور سنگھ، مُبارک گل، سلمان علی ساگر، ایم وائی تاریگامی، خورشید احمد شیخ، پون گپتا، سجاد غنی لون، اعجاز جان، عبدالمجید بٹ لارمی، نظام الدین بٹ، وِکرم رندھاوا، بلونت سنگھ منکوٹیا، چودھری محمد اکرم، نذیر احمد خان گریزی، افتخار احمد اور نریندر سنگھ نے بھی مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔تمام سیاسی جماعتوں کے اَرکان نے اَپنے سابق ساتھیوں کی عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی عوامی خدمت اور عوام کی فلاح و بہبود کے جذبے و عزم کو یاد کیا۔سپیکر عبدالرحیم راتھر اور ایوان کے اَرکان نے مرحومین کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ تجویز پیش کی کہ ایوان میں تعزیتی قراردادوں کے دوران طویل تقاریر کرنے کے بجائے پارلیمانی روایت کے مطابق دو منٹ کی خاموشی اِختیار کی جائے تاکہ مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ سپیکر نے کہا کہ اس تجویز پر غور کیا جائے گا کیوں کہ یہ دلیل وزن رکھتی ہے اور قابلِ غور ہے۔






